EN हिंदी
تو عاشقوں کے تئیں جب سے قتل ناز کیا | شیح شیری
tu aashiqon ke tain jab se qatl-e-naz kiya

غزل

تو عاشقوں کے تئیں جب سے قتل ناز کیا

مرزا اظفری

;

تو عاشقوں کے تئیں جب سے قتل ناز کیا
خوشی ہیں منت جاں سے تو بے نیاز کیا

کہاں کی عقل کدھر کے حواس کیسا ہوش
خرد کے قصر پہ تو نے تو ترک ناز کیا

ہمارے کلبۂ احزاں میں کر قدم رنجہ
نہال ہم کو تو اے سرو سرفراز کیا

کیا تھا تیغۂ ابرو نے مختصر قصہ
پہ تیری کاکل مشکیں نے پھر دراز کیا

دل اور لاؤں کہاں سے لگے جو اوروں سے
جو ایک دل تھا سو وہ تو تری نیاز کیا

یہ طفل اشک مرا اظفریؔ ہے ناشدنی
جوانا مرگ مری اس نے فاش راز کیا