طرفہ چمن کھلا ہے دل داغدار کا
یعنی خزاں سے کام لیا ہے بہار کا
کٹ جائے پتا کب ورق روزگار کا
کیا اعتبار ہستئ نا پائیدار کا
مدفن ہے اک شہید غریب الدیار کا
کتبہ بتا رہا ہے یہ لوح مزار کا
پہنچا صبا کے ساتھ وہ کوچہ میں یار کے
دیکھو تو حوصلہ مرے مشت غبار کا
جنت کا سبز باغ نہ زاہد دکھا مجھے
میرے بھی گھر میں پیڑ لگا ہے انار کا
بارہ دری میں رہتا ہوں شعلہؔ شرف یہ ہے
اثنا عشر ہوں شکر ہے پروردگار کا
غزل
طرفہ چمن کھلا ہے دل داغدار کا
شعلہ کراروی

