EN हिंदी
تمہارے چاک پر اے کوزہ گر لگتا ہے ڈر ہم کو | شیح شیری
tumhaare chaak par ai kuza-gar lagta hai Dar hum ko

غزل

تمہارے چاک پر اے کوزہ گر لگتا ہے ڈر ہم کو

شمیم حنفی

;

تمہارے چاک پر اے کوزہ گر لگتا ہے ڈر ہم کو
عجب پاگل سی اک پرچھائیں آتی ہے نظر ہم کو

یہ کیسی بات ہے دن کی گھڑی ہے اور اندھیرا ہے
چمکتی دھوپ میں سونا پڑا ہے رات بھر ہم کو

ہمیں گھر سے نکالا تھا تو یہ بھی سوچ لینا تھا
کہ صاحب پھر کبھی آنا نہیں ہے لوٹ کر ہم کو

ابھی تھوڑا سا شاید اور کچھ قصہ چکانا ہے
ابھی کچھ اور تھوڑی دور کرنا ہے سفر ہم کو

نہیں معلوم کس چکر میں یہ حالت بنا ڈالی
لیے جاتا ہے اک دریائے بے تابی کدھر ہم کو