EN हिंदी
تمہارا نام لے کر در بہ در ہوتا رہوں گا | شیح شیری
tumhaara nam le kar dar-ba-dar hota rahunga

غزل

تمہارا نام لے کر در بہ در ہوتا رہوں گا

راشد آذر

;

تمہارا نام لے کر در بہ در ہوتا رہوں گا
کہ برسوں داغ دل اشکوں سے میں دھوتا رہوں گا

تو خوشیاں ہی سمیٹ اور غم مجھے دے دے میں ہوں نا
ترے حصے کی غمگینی کو میں روتا رہوں گا

جگایا منتظر آنکھوں نے برسوں اب یہ سوچا
کہ مرنے کا بہانہ کر کے میں سوتا رہوں گا

مجھے بس ایک لمحہ سوچنے دو زندگی بھر
کسے پانے کی خاطر میں کسے کھوتا رہوں گا

مرے شانے تھکے ہارے ہیں آزرؔ سوچتا ہوں
کہاں تک اپنے سر کا بوجھ میں ڈھوتا رہوں گا