EN हिंदी
تم نے بیمار محبت کو ابھی کیا دیکھا | شیح شیری
tumne bimar-e-mohabbat ko abhi kya dekha

غزل

تم نے بیمار محبت کو ابھی کیا دیکھا

اکبر الہ آبادی

;

تم نے بیمار محبت کو ابھی کیا دیکھا
جو یہ کہتے ہوئے جاتے ہو کہ دیکھا دیکھا

طفل دل کو مرے کیا جانے لگی کس کی نظر
میں نے کمبخت کو دو دن بھی نہ اچھا دیکھا

لے گیا تھا طرف گور غریباں دل زار
کیا کہیں تم سے جو کچھ واں کا تماشا دیکھا

وہ جو تھے رونق آبادیٔ گلزار جہاں
سر سے پا تک انہیں خاک رہ صحرا دیکھا

کل تلک محفل عشرت میں جو تھے صدر نشیں
قبر میں آج انہیں بیکس و تنہا دیکھا

بسکہ نیرنگی عالم پہ اسے حیرت تھی
آئینہ خاک سکندر کو سراپا دیکھا

سر جمشید کے کاسے میں بھری تھی حسرت
یاس کو معتکف تربت دارا دیکھا