EN हिंदी
تم میں تو کچھ بھی واہیات نہیں | شیح شیری
tum mein to kuchh bhi wahiyat nahin

غزل

تم میں تو کچھ بھی واہیات نہیں

شمیم عباس

;

تم میں تو کچھ بھی واہیات نہیں
جاؤ تم آدمی کی ذات نہیں

دل میں جو ہے وہی زبان پے ہے
اور کوئی ہم میں خاص بات نہیں

سب کو دھتکارا درکنار کیا
ایک بس خود ہی سے نجات نہیں

کھل کے ملتے ہیں جس سے ملتے ہیں
ذہن میں کوئی چھوت چھات نہیں

اک تعلق سبھی سے ہے لیکن
سب سے جائز تعلقات نہیں

شاعری ہے یہ شاعری صاحب
یہ شریفوں کے بس کی بات نہیں