EN हिंदी
تم ہو جب میرے لیے ہیں دو جہاں میرے لئے | شیح شیری
tum ho jab mere liye hain do-jahan mere liye

غزل

تم ہو جب میرے لیے ہیں دو جہاں میرے لئے

بسمل سعیدی

;

تم ہو جب میرے لیے ہیں دو جہاں میرے لئے
یہ زمیں میرے لیے یہ آسماں میرے لئے

اس طرح جذبات آزادی بہل جائیں گے کیا
بن رہا ہے کیوں قفس میں آشیاں میرے لئے

میں چلا جاؤں نہ گلشن چھوڑ کر قبل از بہار
کیوں گریں سارے چمن پر بجلیاں میرے لئے

رو رہا ہوں آج میں سارے جہاں کے واسطے
روئے گا کل دیکھنا سارا جہاں میرے لئے

اضطراب شوق سے کیا کیا ہوئی ہیں لغزشیں
التفات یار نے جب امتحاں میرے لئے

ہے محبت کب رہین راہ و رسم طاہری
بندگی ہے بے نیاز آستاں میرے لئے

بے پناہی ہے یہی بسملؔ جو حسن و عشق کی
ہوگی نا کافی حیات جاوداں میرے لئے