EN हिंदी
تم اپنی یاد سے کہہ دو نہ جائے چھوڑ کے دل | شیح شیری
tum apni yaad se kah do na jae chhoD ke dil

غزل

تم اپنی یاد سے کہہ دو نہ جائے چھوڑ کے دل

قمر جلالوی

;

تم اپنی یاد سے کہہ دو نہ جائے چھوڑ کے دل
کہ درد ہجر نہ رکھ دے کہیں مروڑ کے دل

اب آپ کے مرے گھر تک قدم نہیں آتے
یہ وہ سزا ہے دیا تھا جو ہاتھ جوڑ کے دل

خدا رکھے ابھی کمسن ہو قدر کیا جانو
ذرا سی دیر میں رکھ دو گے توڑ پھوڑ کے دل

لیا تھا جیسے اسی طرح پھیر بھی دیتے
یہ کیا کہ پھینک دیا تم نے منہ سکوڑ کے دل

ہمارے ساتھ نہ دیکھی بہار تاروں کی
قمرؔ چلے گئے وہ چاندنی میں توڑ کے دل