EN हिंदी
تجھے خلق کہتی ہے خود نما تجھے ہم سے کیوں یہ حجاب ہے | شیح شیری
tujhe KHalq kahti hai KHud-numa tujhe humse kyun ye hijab hai

غزل

تجھے خلق کہتی ہے خود نما تجھے ہم سے کیوں یہ حجاب ہے

پنڈت جواہر ناتھ ساقی

;

تجھے خلق کہتی ہے خود نما تجھے ہم سے کیوں یہ حجاب ہے
ترا جلوہ تیرا ہے پردہ در تیرے رخ پہ کیوں یہ نقاب ہے

تجھے حسن مایۂ ناز ہے دل خستہ محو نیاز ہے
کہوں کیا یہ قصۂ راز ہے مرا عشق خانہ خراب ہے

یہ رسالہ عشق کا ہے ادق ترے غور کرنے کا ہے سبق
کبھی دیکھ اس کو ورق ورق مرا سینہ غم کی کتاب ہے

تری جذب میں ہے ربودگی تیرے سکر میں ہے غنودگی
نہ خبر شہود و وجود کی نہ ترنگ موج سراب ہے

یہ وہی ہے ساقیؔٔ شیفتہ جو ہے دل سے تیرا فریفتہ
یہ ہے تیرا بندہ گریختہ کہ جو خاکسار تراب ہے