EN हिंदी
تجھے بھی عشق ہوا ہے یہ کس زمانے میں | شیح شیری
tujhe bhi ishq hua hai ye kis zamane mein

غزل

تجھے بھی عشق ہوا ہے یہ کس زمانے میں

عارف اشتیاق

;

تجھے بھی عشق ہوا ہے یہ کس زمانے میں
نہیں ہے مال محبت بھی دل خزانے میں

ملو کہ بات بڑھے دیکھتے ہیں پھر شاید
ذرا کہیں سے محبت جڑے فسانے میں

ہمارا اگلا پڑاؤ تو بس محبت ہے
ہوس تو آئے گی جاناناں درمیانے میں

میں اک فراق زدہ اور نیا نیا ترا عشق
سو خوب رنگ جمے گا نئے پرانے میں

جو ناگوارا تھا مجھ کو اسے گوارا تھا
تو سال لگ گیا اس کو مجھے منانے میں