EN हिंदी
تجھ سے ملوں گا پھر کبھی خواب و خیال بھی نہیں | شیح شیری
tujhse milunga phir kabhi KHwab-o-KHayal bhi nahin

غزل

تجھ سے ملوں گا پھر کبھی خواب و خیال بھی نہیں

ناصر زیدی

;

تجھ سے ملوں گا پھر کبھی خواب و خیال بھی نہیں
چہرے پہ ان دنوں مگر گرد ملال بھی نہیں

آئینہ صفات میں ذات کا عکس کیا ملے
اس کی تلاش ہو کہاں جس کی مثال بھی نہیں

تیرے ستم کی گفتگو تیرے کرم کی جستجو
صبح فراق بھی نہیں شام وصال بھی نہیں

مجھ کو طلب سے کیا ملا درد و سراب آگہی
میری نظر میں معتبر شہر جمال بھی نہیں

وہ بھی تھے دن کہ آئنہ بن کے وہ سامنے رہے
یہ بھی ہے اب کہ خواہش پرسش حال بھی نہیں