EN हिंदी
تجھ سے ہی کیا وفا کی نہیں خوش نگاہ چشم | شیح شیری
tujhse hi kya wafa ki nahin KHush-nigah chashm

غزل

تجھ سے ہی کیا وفا کی نہیں خوش نگاہ چشم

جوشش عظیم آبادی

;

تجھ سے ہی کیا وفا کی نہیں خوش نگاہ چشم
جتنے سفید پوش ہیں سب ہیں سیاہ چشم

اس مہروش کے ہونے نہ دے گریہ رو بہ رو
جب تک سفید ہووے نہ مانند ماہ چشم

اندھیر ہے دیار محبت میں ہمدماں
تقصیر دل کی ٹھہرے کرے جو گناہ چشم

دونوں مکان غیر سے خالی ہیں آ کے بیٹھ
تیرے پسند خواہ یہ دل آئے خواہ چشم

اس کی شب فراق میں اتنا تو رو کہ ہو
دریائے اشک میں تری کشتی تباہ چشم

مجھ کو جلا کے خاک کیا اور بہا دیا
تم سے تو یہ نہ تھی مجھے اے اشک و آہ چشم

ؔجوشش وہ کون سا ہے جفا کار جس پر آج
منہ پر لہو ملے ہوئے ہے داد خواہ چشم