EN हिंदी
تجھ پہ ہر حال میں مرنا چاہوں | شیح شیری
tujh pe har haal mein marna chahun

غزل

تجھ پہ ہر حال میں مرنا چاہوں

روحی کنجاہی

;

تجھ پہ ہر حال میں مرنا چاہوں
میں تو یہ کام ہی کرنا چاہوں

حاصل زیست ہے جرم الفت
مر کے بھی میں نہ مکرنا چاہوں

اپنے اسلوب میں چاہوں جینا
اپنے انداز میں مرنا چاہوں

متوجہ کرے کوئی تو اسے
مثل گل میں بھی نکھرنا چاہوں

کتنا محدود ہوا جاتا ہوں
میں کہ ہر حد سے گزرنا چاہوں

ایک جگنو ہوں مگر دیکھ انداز
صبح کی طرح بکھرنا چاہوں

صورت نغمۂ جاں اے روحیؔ
میں ترے دل میں اترنا چاہوں