EN हिंदी
تجھ کو معلوم نہیں کیا ہے تری یادوں سے | شیح شیری
tujhko malum nahin kya hai teri yaadon se

غزل

تجھ کو معلوم نہیں کیا ہے تری یادوں سے

امت شرما میت

;

تجھ کو معلوم نہیں کیا ہے تری یادوں سے
ایک انجان سا رشتہ ہے تری یادوں سے

رات بے چین سی سردی میں ٹھٹھرتی ہے بہت
دن بھی ہر روز سلگتا ہے تری یادوں سے

ہجر کے غم نے مجھے مار دیا تھا تو کیا
مر کے جینا بھی تو سیکھا ہے تری یادوں سے

آج پھر سے جو ہوا قید تو یہ سوچوں ہوں
کل ہی سوچا تھا کہ بچنا ہے تری یادوں سے

ایسے شامل تھا میں تجھ میں کہ بڑی مشکل سے
میں نے اب خود کو نکالا ہے تری یادوں سے

کیا بتائیں کہ یہاں کیسے گزاری ہم نے
اپنی ہر سانس کو سینچا ہے تری یادوں سے

میتؔ یادوں نے بھی کتنا ہے ستایا مجھ کو
مرا تکیہ بڑا بھیگا ہے تری یادوں سے