تجھ بن سرشک خوں کا ہے آنکھوں سے طغیاں اس قدر
برسا نہیں اب تک کہیں ابر بہاراں اس قدر
گلشن میں گر دیکھیں مجھے ہوئیں سنبل و نرگس خجل
دل ہے پریشاں اس قدر آنکھیں ہیں حیراں اس قدر
رکھتا ہے تو جس جا قدم ہوتا ہے لوہو کا نشاں
پامال کرتا ہے کوئی خون شہیداں اس قدر
ڈھونڈھے جو تو دامن تلک پاوے نہ ثابت تو اسے
میں چاک پھرتا ہوں کئے ناصح گریباں اس قدر
بیدارؔ کو دکھلا کے تو نے قتل اوروں کو کیا
کرتا ہے اے ظالم کوئی ظلم نمایاں اس قدر
غزل
تجھ بن سرشک خوں کا ہے آنکھوں سے طغیاں اس قدر
میر محمدی بیدار

