تری یادوں سے دل فروزاں کریں گے
پھر اس غم کدے میں چراغاں کریں گے
ذرا حضرت دل کی جرأت تو دیکھو
یہ نظارۂ حسن جاناں کریں گے
زمانہ جو آتش فشاں ہے تو کیا غم
ہم آتش کدے کو گلستاں کریں گے
چلے تو ذرا دور جام محبت
فرشتے بھی تقلید انساں کریں گے
سلامت روی جرم سمجھے گی دنیا
کسی سے اگر ذکر طوفاں کریں گے
جو آسانیوں کو بھی مشکل بنا دیں
وو کیا میری مشکل کو آساں کریں گے
غزل
تری یادوں سے دل فروزاں کریں گے
شکیل بدایونی