EN हिंदी
ترا خیال سر شام غم سنورتا ہوا | شیح شیری
tera KHayal sar-e-sham gham sanwarta hua

غزل

ترا خیال سر شام غم سنورتا ہوا

مظہر امام

;

ترا خیال سر شام غم سنورتا ہوا
بہت قریب سے گزرا سلام کرتا ہوا

جھجک رہا تھا وہ مجھ سے نظر ملاتے ہوئے
کہ میں بھی تھا اسی خاکے میں رنگ بھرتا ہوا

میں غرق ہونے ہی والا تھا جب تو اک تنکا
بھنور سے مجھ کو دکھائی دیا ابھرتا ہوا

ملا وہ پانچ ستاروں کی رقص گاہوں میں
زمانے بھر سے پشیمان خود سے ڈرتا ہوا

مسافتیں ہیں بہت اور سخت راہوں سے
گزر گیا ہے وہ مجھ کو تلاش کرتا ہوا

رقم ہوا نہیں اب تک نصاب ہم سفری
وہ قافلہ بھی ملا جب تو کوچ کرتا ہوا

عجب طلسم سفر ہے کہ شام مقتل تک
پہنچ گیا ہوں میں ہر موڑ پر ٹھہرتا ہوا

کنارہ تھا مرے دریا سے کٹ گیا وہ شخص
کہ میں تھا وقت کی سرحد کو پار کرتا ہوا