تیر کی پرواز ہے مشکیزۂ دل کی طرف
ہو کے گھائل پھر بھی ہم مائل ہیں قاتل کی طرف
گو نہیں پیراک لیکن حوصلہ بڑھنے کا ہے
موج کی اک فوج صف بستہ ہے ساحل کی طرف
ہر جگہ حاضر ہوں میں اپنے مثالی تن کے ساتھ
فاصلے اور وقت بے معنی ہیں منزل کی طرف
جیسی اپنی عین ہے اتنی ہی اپنی دوڑ دھوپ
قیس محمل کی طرف ہم شمع محفل کی طرف
صوت ناقوس و جرس ہو یا اذاں ہو یا جرس
راستہ اک اور جاتا ہے سلاسل کی طرف
جیسے بے حرف و نوا اتری ہے الہامی کتاب
وہ مخاطب ہیں اسی انداز سے دل کی طرف
بادہ خواروں میں بھی ہم کاوشؔ ولی بن کر جیے
رخ ہمارا تھا تصوف کے مسائل کی طرف
غزل
تیر کی پرواز ہے مشکیزۂ دل کی طرف
کاوش بدری

