EN हिंदी
تھی کچھ نہ خطا پھر بھی پشیمان رہے ہیں | شیح شیری
thi kuchh na KHata phir bhi pasheman rahe hain

غزل

تھی کچھ نہ خطا پھر بھی پشیمان رہے ہیں

شاہین غازی پوری

;

تھی کچھ نہ خطا پھر بھی پشیمان رہے ہیں
کیا کیا غم حالات کے عنوان رہے ہیں

خود جن کو نہ عرفان تھا تقدیس جنوں کا
وہ بھی مری ہستی کے نگہبان رہے ہیں

جن کو مری ہر بات پہ وحشت کا گماں تھا
وہ میری خموشی کا برا مان رہے ہیں

دلچسپ نظر آئی تھی یہ رسم و رہ دل
پر جان کا اک روگ ہے اب جان رہے ہیں

جو بھی ہے اسے تنگئ داماں کا گلا ہے
ایک ایک کو ہم دور سے پہچان رہے ہیں