EN हिंदी
تھی چال حشر میں بھی قیامت حضور کی | شیح شیری
thi chaal hashr mein bhi qayamat huzur ki

غزل

تھی چال حشر میں بھی قیامت حضور کی

جاوید لکھنوی

;

تھی چال حشر میں بھی قیامت حضور کی
سچ پوچھئے تو جھینپ گئی آنکھ حور کی

سچ ہے کہ راز وصل چھپانا نہیں ہے سہل
میں کیا کہوں جو کہتی ہے چتون حضور کی

جانے سے دل کے کیوں نہ ہو ویران بزم عیش
شب بھر اسی سے رہتی تھی باتیں حضور کی

غش آج آ گیا ہے خدا جانے کل ہو کیا
موسیٰ اب اور سیر کرو کوہ طور کی

جنت میں پوچھتے ہوئے جاویدؔ ہم چلے
دوکان کس طرف ہے شراب طہور کی