EN हिंदी
تھے ہم استادہ ترے در پہ ولے بیٹھ گئے | شیح شیری
the hum istada tere dar pe wale baiTh gae

غزل

تھے ہم استادہ ترے در پہ ولے بیٹھ گئے

بقا اللہ بقاؔ

;

تھے ہم استادہ ترے در پہ ولے بیٹھ گئے
تو نے چاہا تھا کہ ٹالے نہ ٹلے بیٹھ گئے

بزم میں شیخ جی اب ہے کہ ہے یاں عیب نہیں
فرش پر گر نہ ملی جا تو تلے بیٹھ گئے

غیر بد وضع ہیں محفل سے شتاب ان کی اٹھو
پاس ایسوں کے تم اے جان بھلے بیٹھ گئے

گھر سے نکلا نہ تو اور منتظروں نے تیرے
در پہ نالے کیے یاں تک کہ گلے بیٹھ گئے

ناتواں ہم ہوئے یاں تک کہ تری محفل تک
گھر سے آتے ہوئے سو بار چلے بیٹھ گئے

اشک اور آہ کی شدت نہ تھمی گرچہ بقاؔ
گھر کے گھر اس میں ہزاروں کے جلے بیٹھ گئے