EN हिंदी
ٹھہرا ہے قریب جان آ کر | شیح شیری
Thahra hai qarib-e-jaan aa kar

غزل

ٹھہرا ہے قریب جان آ کر

شاہدہ حسن

;

ٹھہرا ہے قریب جان آ کر
جانے کا نہیں یہ دھیان آ کر

آئینہ لیا تو تیری صورت
ہنسنے لگی درمیان آ کر

ٹپکے نہ یہ اشک چشم غم سے
جائے نہ یہ میہمان آ کر

پلٹی جو ہوا گئے دنوں کی
دہرا گئی داستان آ کر

قدموں سے لپٹ گئے ہیں رستے
آتا ہی نہیں مکان آ کر

جا پہنچی زمین اس سے ملنے
ملتا نہ تھا آسمان آ کر