EN हिंदी
تھا مری جست پہ دریا بڑی حیرانی میں | شیح شیری
tha meri jast pe dariya baDi hairani mein

غزل

تھا مری جست پہ دریا بڑی حیرانی میں

رضی اختر شوق

;

تھا مری جست پہ دریا بڑی حیرانی میں
کیوں مرا عکس بہت دیر رہا پانی میں

شاید اس خاک سے خورشید کوئی اٹھے گا
سو میں رہتا ہوں عناصر کی نگہبانی میں

پاس آداب کہ یاں دیر نہیں لگتی ہے
میر زنداں کو بدلتے ہوئے زندانی میں

ان کی آواز کو خاطر میں نہ لانے والو
تم نے دریاؤں کو دیکھا نہیں طغیانی میں

وہ عجب دور محبت تھا زمانہ تھا نہ وقت
جیسے دونوں ہوں کسی عالم لا فانی میں

وہ بھی تصویر سا آغاز محبت میں رہا
میں بھی تھا آئینہ خانوں کی سی حیرانی میں

کوئی غم خوار نظر آئے تو ڈر جاتا ہوں
یہ بھی آسیب نہ ہو قالب انسانی میں

میرے ہونٹوں ہی پہ اڑتی رہی آواز کی راکھ
کیسے لو دے یہ کسی خطۂ برفانی میں

تیری بستی کو خدا عشق سے آباد رکھے
جس نے آباد رکھا ہے مجھے ویرانی میں