تھا مکان دل کسی اور کا پہ رہا بسا کوئی دوسرا
میں کسی کے ہجر میں مضطرب مجھے چاہتا کوئی دوسرا
ترا رنگ سب سے جدا سہی تری شکل سب سے حسیں مگر
مرا مبتدا کوئی اور ہے مرا منتہا کوئی دوسرا
مرے لوگ گرد و غبار میں ترے یار تیرے دیار میں
تو اسیر منزل شش جہت مرا راستہ کوئی دوسرا
میں ذرا سی بات پہ روٹھ کر تو نہیں گیا تری بزم سے
مرے مہرباں کبھی سوچتا تھا معاملہ کوئی دوسرا
یہی آسماں مرا آسرا یہی خاک خلعت بے بہا
مری جائیداد جنوں جسے نہیں بانٹتا کوئی دوسرا
غزل
تھا مکان دل کسی اور کا پہ رہا بسا کوئی دوسرا
اسعد بدایونی

