تھا مگر اتنا زیادہ تو جنوں خیز نہ تھا
پہلے دیکھا تھا تو لب ہی تھا یہ لبریز نہ تھا
تھیں مگر اتنی بھی بدمست نہ تھیں یہ آنکھیں
تھا مگر آنکھ میں سرمہ ترا یوں تیز نہ تھا
تیرے پھولوں سے یہ خوشبو تو نہیں آتی تھی
موسم لمس سے تو قریۂ زرخیز نہ تھا
یاد تو ہے تری کم عمر نگاہوں کا فسوں
لیکن اس چشم جواں سا سحر انگیز نہ تھا
ٹوٹی پڑتی نہ تھیں آنکھیں مری تجھ پر ایسے
گل بہ داماں تو تو پہلے ہی تھا گل ریز نہ تھا
جیسا مواج تھا اس حسن کا دریا کاشفؔ
دل کا طوفان کوئی ویسا بلا خیز نہ تھا

غزل
تھا مگر اتنا زیادہ تو جنوں خیز نہ تھا
سید کاشف رضا