EN हिंदी
تیز آندھی نے فقط اک سائباں رہنے دیا | شیح شیری
tez aandhi ne faqat ek saeban rahne diya

غزل

تیز آندھی نے فقط اک سائباں رہنے دیا

شفیق سلیمی

;

تیز آندھی نے فقط اک سائباں رہنے دیا
ہم زمیں زادوں کے سر پر آسماں رہنے دیا

لفظ وہ برتے کہ ساری بات مبہم ہو گئی
اک پردہ تھا کہ حائل درمیاں رہنے دیا

آنکھ بستی نے سبھی موسم مسافر کر دیے
ایک اشکوں کی روانی کا سماں رہنے دیا

خون کی سرخی اندھیروں میں اجالا بن گئی
ہم نے ہر صورت چراغوں کو جواں رہنے دیا

صد کمال مہربانی پانیوں نے اس دفعہ
کاغذی کشتی کو لہروں پر رواں رہنے دیا

لاکھ کوشش پر بھی گھر کو گھر نہ کر پائے شفیقؔ
اور پھر ہم نے مکاں کو بس مکاں رہنے دیا