EN हिंदी
تیری زباں سے خستہ کوئی زار ہے کوئی | شیح شیری
teri zaban se KHasta koi zar hai koi

غزل

تیری زباں سے خستہ کوئی زار ہے کوئی

قائم چاندپوری

;

تیری زباں سے خستہ کوئی زار ہے کوئی
پیارے یہ نحو و صرف یہ گفتار ہے کوئی

ٹھوکر میں ہر قدم کی تڑپتے ہیں دل کئی
ظالم ادھر تو دیکھ یہ رفتار ہے کوئی

جوں شاخ گل ہے فکر میں میری شکست کی
میرا گر اس چمن میں ہوا دار ہے کوئی

ظالم خبر تو لے کہیں قائمؔ ہی یہ نہ ہو
نالان و مضطرب پس دیوار ہے کوئی