EN हिंदी
تیری یاد اور تیرے دھیان میں گزری ہے | شیح شیری
teri yaad aur tere dhyan mein guzri hai

غزل

تیری یاد اور تیرے دھیان میں گزری ہے

جمال احسانی

;

تیری یاد اور تیرے دھیان میں گزری ہے
ساری زندگی ایک مکان میں گزری ہے

اس تاریک فضا میں میری ساری عمر
دیا جلانے کے امکان میں گزری ہے

اپنے لیے جو شام بچا کر رکھی تھی
وہ تجھ سے عہد و پیمان میں گزری ہے

تجھ سے اکتا جانے کی اک ساعت بھی
تیرے عشق ہی کے دوران میں گزری ہے

دیواروں کا شوق جہاں تھا سب کو جمالؔ
عمر مری اس خاندان میں گزری ہے