EN हिंदी
تیری تصویروں کو دیکھ پگھلتی ہیں | شیح شیری
teri taswiron ko dekh pighalti hain

غزل

تیری تصویروں کو دیکھ پگھلتی ہیں

امت شرما میت

;

تیری تصویروں کو دیکھ پگھلتی ہیں
اب یہ آنکھیں ہم سے نہیں سنبھلتی ہیں

ہر دن چہرہ الگ طرح کا ہوتا ہے
غم کی شکلیں بھی تو روز بدلتی ہیں

ان خوابوں کا سچ ہونا کیا ممکن ہے
جن کے خاطر آنکھیں میری جلتی ہیں

جانے کس کا لہجہ اس پر حاوی ہے
اس کی باتیں اب انگار اگلتی ہیں

دل کے قبرستان کا یاروں کیا کہنا
لاشیں بس جذبات کی اس میں پلتی ہیں

جب تک ہوں میں زندہ ملنے آ جاؤ
لمحہ لمحہ سانسیں روز نکلتی ہیں

امیدوں کا سورج روز نکلتا ہے
شام کے جیسی میتؔ امیدیں ڈھلتی ہیں