تیغ بران نکالو صاحب
دل کے ارمان نکالو صاحب
گھر سے رکھتے ہو قدم کیوں باہر
نہ مری جان نکالو صاحب
دیکھ رہنے سے خفا ہو تو مری
چشم حیران نکالو صاحب
ہے یہ ناصور جگر کی بتی
تم نہ پیکان نکالو صاحب
رہنے دو گھر میں نہ مجھ پر ناحق
رکھ کے بہتان نکالو صاحب
بار اغیار کو خلوت میں نہ دو
ہیں بد انسان، نکالو صاحب
ہے مری طرح تمہارا کہیں دھیان
دل سے یہ دھیان نکالو صاحب
گالی ناحق نہ کسی کے حق میں
منہ سے ہر آن نکالو صاحب
ہائے یہ رنجش بے جا دل سے
کسی عنوان نکالو صاحب
سر بازار نہ بیٹھا کرو تم
کچھ تو اب شان نکالو صاحب
گرم بازاری کی خاطر سر راہ
تم نہ دوکان نکالو صاحب
حسرت وصل ہے جرأتؔ کو کمال
لو یہ ارمان نکالو صاحب
غزل
تیغ بران نکالو صاحب
جرأت قلندر بخش

