EN हिंदी
طرب کے مخمصے غم کے جھمیلے | شیح شیری
tarab ke maKHmase gham ke jhamele

غزل

طرب کے مخمصے غم کے جھمیلے

عرش ملسیانی

;

طرب کے مخمصے غم کے جھمیلے
دل ناداں نے لاکھوں کھیل کھیلے

گئے اک ایک کر کے ہم سفر سب
ہمیں زندہ ہیں مرنے کو اکیلے

غم دوراں سے اتنی بار ہارے
غم جاناں سے جتنی بار کھیلے

دل آخر تاب لاتا بھی تو کب تک
قیامت تھے تمناؤں کے ریلے

یہ دنیا ختم ہو جائے گی آخر
نہ ہوں گے ختم دنیا کے جھمیلے

نہ کوئی ہم خیال اے عرشؔ پایا
رہے ہم انجمن میں بھی اکیلے