EN हिंदी
تنہائیوں کا حبس مجھے کاٹتا رہا | شیح شیری
tanhaiyon ka habs mujhe kaTta raha

غزل

تنہائیوں کا حبس مجھے کاٹتا رہا

رشید قیصرانی

;

تنہائیوں کا حبس مجھے کاٹتا رہا
مجھ تک پہنچ سکی نہ ترے شہر کی ہوا

وہ قہقہوں کی سیج پہ بیٹھا ہوا ملا
میں جس کے در پہ درد کی بارات لے گیا

اک عمر جستجو میں گزاری تو یہ کھلا
وہ میرے پاس تھا میں جسے ڈھونڈھتا رہا

نکلا ہوں لفظ لفظ سے میں ڈوب ڈوب کر
یہ میرا خط ہے یا کوئی دریا چڑھا ہوا

آنکھوں میں جیسے کانچ کے ٹکڑے چبھو لیے
پلکوں پہ تیری کاش میں آنسو نہ دیکھتا

نظریں ملیں تو وقت کی رفتار تھم گئی
نازک سے ایک لمحے پہ برسوں کا بوجھ تھا

میں نے بڑھا کے ہاتھ اسے چھو لیا رشیدؔ
اتنا قریب آج مرے چاند آ گیا