EN हिंदी
تنہائی کی خلیج ہے یوں درمیان میں | شیح شیری
tanhai ki KHalij hai yun darmiyan mein

غزل

تنہائی کی خلیج ہے یوں درمیان میں

سلطان اختر

;

تنہائی کی خلیج ہے یوں درمیان میں
ہر شخص جیسے قید ہو اندھے مکان میں

اس کے لبوں پہ سات سمندر کا عکس تھا
صدیوں کی پیاس جذب تھی میری زبان میں

آئی اگر گھٹا اسے سورج نے کھا لیا
اب کے برس بھی آگ لگی آسمان میں

ٹکرا کے اختلاف کی دیوار توڑ دی
ضدی تھا سر بلند ہوا خاندان میں

یوں بھی دہکتے دشت سے کیا کم تھی زندگی
بے کار دھوپ کود پڑی درمیان میں

بہتر ہے اپنے آپ سے کچھ بولتے رہو
یوں چپ رہے تو زنگ لگے گا زبان میں