EN हिंदी
تنہا شجر کے درد کا احساس دے گیا | شیح شیری
tanha shajar ke dard ka ehsas de gaya

غزل

تنہا شجر کے درد کا احساس دے گیا

مصور سبزواری

;

تنہا شجر کے درد کا احساس دے گیا
اک شخص مجھ کو جسم کا بن باس دے گیا

لب ہائے نیلگوں پہ ہیں اس کی امانتیں
جاتے لبوں کا جوہر الماس دے گیا

جس میں کبھی بھی عکس کی کرچیں نہیں رہیں
ٹوٹا ہوا وہ شیشۂ احساس دے گیا

اب تک ہے میرے ہاتھوں میں خوشبو رچی ہوئی
مصلوب ہو کے پھول بہت باس دے گیا

اک رود بے وفائی میں مجھ کو بہا کے آج
ساتوں سمندروں کی کوئی پیاس دے گیا

اک نا مراد افق پہ ہے کہرے کا چاند سا
کیسی مصورؔ آس وہ بے آس دے گیا