EN हिंदी
تنہا نہ دل ہی لشکر غم دیکھ ٹل گیا | شیح شیری
tanha na dil hi lashkar-e-gham dekh Tal gaya

غزل

تنہا نہ دل ہی لشکر غم دیکھ ٹل گیا

میر محمدی بیدار

;

تنہا نہ دل ہی لشکر غم دیکھ ٹل گیا
اس معرکے میں پائے تحمل بھی چل گیا

ہیں گرم گفتگو گل و بلبل چمن کے بیچ
ہوگا خلل صبا جو کوئی پات مل گیا

اس شمع رو سے قصد نہ ملنے کا تھا ہمیں
پر دیکھتے ہی موم صفت دل پگھل گیا

منعم تو یاں خیال عمارت میں کھو نہ عمر
لے کون اپنے ساتھ یہ قصر و محل گیا

لاگی نہ غیر یاس حیات امید ہاتھ
دنیا سے جو گیا کف افسوس مل گیا

اس راہ رو نے دم میں کیا طے رہ عدم
ہستی کے سنگ سے جو شرر سا اچھل گیا

دیکھا ہر ایک ذرے میں اس آفتاب کو
جس چشم سے کہ بے بصری کا خلل گیا

گزری شب شباب ہوا روز شیب اخیر
کچھ بھی خبر ہے قافلہ آگے نکل گیا

قابل مقام کے نہیں بیدارؔ یہ سرائے
منزل ہے دور خواب سے اٹھ دن تو ڈھل گیا