EN हिंदी
تمناؤں کی دنیا میں قدم دھرنے نہیں دیتی | شیح شیری
tamannaon ki duniya mein qadam dharne nahin deti

غزل

تمناؤں کی دنیا میں قدم دھرنے نہیں دیتی

جمیل یوسف

;

تمناؤں کی دنیا میں قدم دھرنے نہیں دیتی
جو کرنا چاہتا ہوں زندگی کرنے نہیں دیتی

کوئی صورت نہیں ہے زندگی سے بچ نکلنے کی
غم و آلام کے ماروں کو بھی مرنے نہیں دیتی

اندھیرا لاکھ ہو مجھ کو سحر کی آس رہتی ہے
یہی وہ روشنی ہے جو مجھے ڈرنے نہیں دیتی

کوئی موسم ہو ان زلفوں کی خوشبو لے ہی آتی ہے
ہوائے شوق دل کے زخم کو بھرنے نہیں دیتی

خدا نے میرے اندر کیا خبر کیا چیز رکھ دی ہے
جو سمجھوتہ مجھے حالات سے کرنے نہیں دیتی

مجھے معلوم ہے وعدہ نبھانا سخت مشکل ہے
مری کم ہمتی انکار بھی کرنے نہیں دیتی

گزرتی رو بدلتی جا رہی ہے ایک اک شے کو
کسی شے سے مجھے الفت کا دم بھرنے نہیں دیتی