EN हिंदी
تماشے چٹکلے تالی میں مت رکھ | شیح شیری
tamashe chuTkule tali mein mat rakh

غزل

تماشے چٹکلے تالی میں مت رکھ

پرتاپ سوم ونشی

;

تماشے چٹکلے تالی میں مت رکھ
ادب کو ایسی بد حالی میں مت رکھ

کہ زہر ہو جائیں گے پکوان سارے
انہیں احساس کی تھالی میں مت رکھ

خیالوں کا پرندہ کہہ رہا ہے
مجھے آکاش دے جالی میں مت رکھ

اداسی خون میں گھل جائے گی پھر
اسے تو چائے کی پیالی میں مت رکھ

بڑکپن پیڑ سکھلاتے ہیں ہم کو
پکے پھل کو کبھی ڈالی میں مت رکھ

کمانے میں بہت کچھ کھو گیا ہے
کسی کو ایسی کنگالی میں مت رکھ