تلاش رنگ میں آوارہ مثل بو ہوں میں
گزر کے آپ سے اپنی ہی جستجو ہوں میں
نفس ہے سختیٔ قید حیات کا ضامن
نکل سکے جو نہ پھانسی سے وہ گلو ہوں میں
نشان ہستی فانی ہے داغ ناکامی
خود اپنی آنکھ سے ٹپکا ہوا لہو ہوں میں
مثال پیکر سیماب اضطراب مدام
پئے نگاہ کرم شرح آرزو ہوں میں
مری زباں پہ ہیں اندیشہ ہائے ناکامی
سمجھ رہے وہ دل میں کہ حیلہ جو ہوں میں
ابھی ہے آب ندامت سر جبیں باقی
نماز ایسے میں پڑھ لوں کہ با وضو ہوں میں
ہوں کچھ نہ ہونے پہ بھی کائنات کا حاصل
کہ اپنا شوق نہیں تیری آرزو ہوں میں
مثال معنیٔ بے لفظ و لفظ بے معنی
جو تیرے دل میں نہیں ہے وہ آرزوؔ ہوں میں
غزل
تلاش رنگ میں آوارہ مثل بو ہوں میں
آرزو لکھنوی

