EN हिंदी
تڑپتے دل کو نہ لے اضطراب لیتا جا | شیح شیری
taDapte dil ko na le iztirab leta ja

غزل

تڑپتے دل کو نہ لے اضطراب لیتا جا

آرزو لکھنوی

;

تڑپتے دل کو نہ لے اضطراب لیتا جا
پٹک دے ساغر خالی شراب لیتا جا

وہ ہاتھ مار پلٹ کر جو کر دے کام تمام
بڑے عذاب میں ہوں میں ثواب لیتا جا

وہ بن ہی گھر سے ہے اچھا سکون جس میں ملے
مجھے بھی او دل خانہ خراب لیتا جا

ملے اک آہ کا وقفہ تو وقت پرشش حال
ہر اک سوال کا اپنے جواب لیتا جا

نقاب اٹھا کے کیا سامنا تو منہ کو نہ پھیر
دکھا کے خواب نہ آنکھوں سے خواب لیتا جا