EN हिंदी
تباہ ہو کے بھی اک اپنی آن باقی ہے | شیح شیری
tabah ho ke bhi ek apni aan baqi hai

غزل

تباہ ہو کے بھی اک اپنی آن باقی ہے

باقر مہدی

;

تباہ ہو کے بھی اک اپنی آن باقی ہے
بغاوتوں کی تڑپ غم کی جان باقی ہے

خلا میں ڈوب کے ہم کو بھی یہ ہوا معلوم
کہ کچھ نہیں ہے مگر آسمان باقی ہے

یہ مت کہو کہ لٹی کائنات درد تمام
کہ زخم زخم یہ سارا جہان باقی ہے

میں کیسے چھوڑ دوں ٹوٹے ہوئے در و دیوار
شکستہ خواب کا تنہا مکان باقی ہے

نہ ختم ہوں گے مصائب کے سلسلے باقرؔ
ہزار خار ہوئے امتحان باقی ہے