EN हिंदी
تازہ تسلیوں سے پرانے سوال کر | شیح شیری
taza tasalliyon se purane sawal kar

غزل

تازہ تسلیوں سے پرانے سوال کر

جاوید ناصر

;

تازہ تسلیوں سے پرانے سوال کر
شائستۂ عذاب ذرا دیکھ بھال کر

اڑتی ہے آسمان میں رنگوں کی دھول کیوں
دیکھیں گے ہم ہوا کو ہوا میں اچھال کر

دل پر عجیب گرد ہے آنکھوں میں ہے غبار
دو چار کام آج تو فرصت نکال کر

آپس میں لڑ پڑے ہیں کسی مسئلے پہ لوگ
اپنا بھی ایک شخص ہے پتھر سنبھال کر