EN हिंदी
تاروں سے ماہتاب سے اور کہکشاں سے کیا | شیح شیری
taron se mahtab se aur kahkashan se kya

غزل

تاروں سے ماہتاب سے اور کہکشاں سے کیا

ہیرا لال فلک دہلوی

;

تاروں سے ماہتاب سے اور کہکشاں سے کیا
میرا وطن زمیں ہے مجھے آسماں سے کیا

ٹکڑے جگر کے ہوں کہ ٹپکتا ہو خون دل
عنواں جو تم نہیں تو تمہیں داستاں سے کیا

جینا جو جانتا ہو تڑپ کر ترے بغیر
اس کو تری گلی سے ترے آستاں سے کیا

ان کا نہ سامنا ہو اسی میں ہے عافیت
کیا جانئے کہ نکلے ہماری زباں سے کیا

اترے گا جب خمار وہی ہوں گے رنج و غم
دل کو سکوں ملے گا مے ارغواں سے کیا

اے دل ہے کس لئے تجھے آوارگی کا شوق
تو بھی بچھڑ گیا ہے کسی کارواں سے کیا

غم ہے شکست کا نہ خوشی فتح کی فلکؔ
مجھ کو عمل سے کام ہے سود و زیاں سے کیا