EN हिंदी
سلگ اٹھی ہے کوئی آگ سی ہواؤں میں | شیح شیری
sulag uThi hai koi aag si hawaon mein

غزل

سلگ اٹھی ہے کوئی آگ سی ہواؤں میں

جلیل عالیؔ

;

سلگ اٹھی ہے کوئی آگ سی ہواؤں میں
بدل گئی ہیں بہاریں مری خزاؤں میں

نہ آئی راس بناوٹ کی زندگی مجھ کو
میں شہر چھوڑ کے پھر آ گیا ہوں گاؤں میں

قدم قدم پہ نیا اک خدا نظر آیا
نہ جانے کون سا برحق ہے ان خداؤں میں

کوئی امید کی بارش کا اہتمام کرو
میں جل رہا ہوں غم و یاس کی چتاؤں میں

بہت کڑا ہے محبت کے راستوں کا سفر
جفا کی دھوپ چھپی ہے وفا کی چھاؤں میں