EN हिंदी
سکوت خوف یہاں کو بہ کو پکارتا ہے | شیح شیری
sukut-e-KHauf yahan ku-ba-ku pukarta hai

غزل

سکوت خوف یہاں کو بہ کو پکارتا ہے

عرفانؔ صدیقی

;

سکوت خوف یہاں کو بہ کو پکارتا ہے
نہ اس کی تیغ نہ میرا لہو پکارتا ہے

میں اپنی کھوئی ہوئی لوح کی تلاش میں ہوں
کوئی طلسم مجھے چار سو پکارتا ہے

وہ مجھ میں بولنے والا تو چپ ہے برسوں سے
یہ کون ہے جو ترے روبرو پکارتا ہے

ندائے کوہ بہت کھینچتی ہے اپنی طرف
مرے ہی لہجے میں وہ حیلہ جو پکارتا ہے

ہمارا عہد ہے بے برگ و بار شاخوں سے
اگرچہ قافلۂ رنگ و بو پکارتا ہے

کہ جیسے میں سر دریا گھرا ہوں نیزوں میں
کہ جیسے خیمۂ صحرا سے تو پکارتا ہے