EN हिंदी
سکوں پذیر جنون شباب ہو نہ سکا | شیح شیری
sukun-pazir junun-e-shabab ho na saka

غزل

سکوں پذیر جنون شباب ہو نہ سکا

سیماب اکبرآبادی

;

سکوں پذیر جنون شباب ہو نہ سکا
شگفت موسم گل کامیاب ہو نہ سکا

اڑائے برق و گل و لالہ نے بہت خاکے
مگر کوئی مرے دل کا جواب ہو نہ سکا

وہاں ہم آرزوئے خواب عیش کیا کرتے
جہاں قیام بمقدار خواب ہو نہ سکا

بدل گئیں وہ نگاہیں یہ حادثہ تھا اخیر
پھر اس کے بعد کوئی انقلاب ہو نہ سکا

وہاں پیام کی گنجائشیں کہاں سیمابؔ
جہاں سلام مرا مستجاب ہو نہ سکا