صبح کو نکلا تھا گرچہ کر و فر سے آفتاب
منہ پھرایا ہو خجل اس عشوہ گر سے آفتاب
آسماں پر گر گرے برق نگاہ تند بار
ابر میں رہ جائے چھپ کر اس کے ڈر سے آفتاب
گر نقاب اپنی الٹ دے وہ رخ تابندہ سے
گر پڑے بیتاب ہو کر چرخ پر سے آفتاب
دل میں جب سے دیکھتا ہے وہ تری تصویر کو
نور برساتا ہے اپنی چشم تر سے آفتاب
ہیبت شاہ دکن سے شادؔ یہ شہرہ ہے آج
کانپتا نکلا کرے جیب سحر سے آفتاب
غزل
صبح کو نکلا تھا گرچہ کر و فر سے آفتاب
مہراج سرکشن پرشاد شاد