صبح طرب تو مست و غزل خواں گزر گئی
شام الم جو آئی تو آ کر ٹھہر گئی
دیکھا کسی نے اوج تصور نہ اوج فن
پنہاں تھا داغ عیب تو سب کی نظر گئی
یاد خدا سے باب حرم تک کھلا نہیں
یاد بتاں سے دل پہ قیامت گزر گئی
تڑپا قفس میں کون جو اے صبح نو بہار
روئے گل و گیاہ صبا چشم تر گئی
اتنا دل نعیمؔ کو ویراں نہ کر حجاز
روئے گی موج گنگ جو اس تک خبر گئی
غزل
صبح طرب تو مست و غزل خواں گزر گئی
حسن نعیم

