صبح دم اٹھ کر ترا پہلو سے جانا یاد ہے
لوٹنا دل کا جگر کا پھڑپھڑانا یاد ہے
یار تھا پہلو میں شیشے کی پری تھی سامنے
کیوں دل نالاں تجھے وہ بھی زمانہ یاد ہے
سن کے احوال محبت کو مرا بولا وہ شوخ
جان دینے کا تجھے اچھا بہانہ یاد ہے
لوٹ تھا دل قامت دل دار پر مدت ہوئی
نخل طوبیٰ پر تھا اپنا آشیانہ یاد ہے
کون دیکھے خندۂ گل کی طرف اے عندلیب
ایک مدت سے کسی کا مسکرانا یاد ہے
کیا دکھاتا ہے فلک ابر سیہ میں روئے ماہ
ہم کو بالوں میں کسی کا منہ چھپانا یاد ہے
ہو مقابل نالۂ درد دل عشاق کے
باغباں بلبل کو ایسا بھی ترانا یاد ہے
ہجر کی شب نیند آئے عاشق بیمار کو
منتہیؔ تجھ کو کوئی ایسا فسانہ یاد ہے
غزل
صبح دم اٹھ کر ترا پہلو سے جانا یاد ہے
مرزا مسیتابیگ منتہی

