EN हिंदी
سوز غم چیز ہے کیا کچھ ہمیں معلوم تو ہو | شیح شیری
soz-e-gham chiz hai kya kuchh hamein malum to ho

غزل

سوز غم چیز ہے کیا کچھ ہمیں معلوم تو ہو

محمد منشاء الرحمن خاں منشاء

;

سوز غم چیز ہے کیا کچھ ہمیں معلوم تو ہو
یہ مرض ہے کہ دوا کچھ ہمیں معلوم تو ہو

روز و شب ہوتی رہے تازہ قیامت برپا
زندگانی کا مزہ کچھ ہمیں معلوم تو ہو

ہم بھی پروانہ مزاجی کا دکھائیں عالم
قیمت و قدر وفا کچھ ہمیں معلوم تو ہو

پھر لگا لیں گے کبھی چاند ستاروں کا سراغ
پہلے خود اپنا پتا کچھ ہمیں معلوم تو ہو

آپ کے لطف سے محروم جو ہم رہتے ہیں
کس خطا کی ہے سزا کچھ ہمیں معلوم تو ہو

دل کی دھڑکن نہ سہی آپ کی آہٹ ہی سہی
ساز ہستی کی صدا کچھ ہمیں معلوم تو ہو

جان و دل ہم بھی کریں نذر محبت منشاؔ
اتنی محنت کا صلا کچھ ہمیں معلوم تو ہو