سوز غم چیز ہے کیا کچھ ہمیں معلوم تو ہو
یہ مرض ہے کہ دوا کچھ ہمیں معلوم تو ہو
روز و شب ہوتی رہے تازہ قیامت برپا
زندگانی کا مزہ کچھ ہمیں معلوم تو ہو
ہم بھی پروانہ مزاجی کا دکھائیں عالم
قیمت و قدر وفا کچھ ہمیں معلوم تو ہو
پھر لگا لیں گے کبھی چاند ستاروں کا سراغ
پہلے خود اپنا پتا کچھ ہمیں معلوم تو ہو
آپ کے لطف سے محروم جو ہم رہتے ہیں
کس خطا کی ہے سزا کچھ ہمیں معلوم تو ہو
دل کی دھڑکن نہ سہی آپ کی آہٹ ہی سہی
ساز ہستی کی صدا کچھ ہمیں معلوم تو ہو
جان و دل ہم بھی کریں نذر محبت منشاؔ
اتنی محنت کا صلا کچھ ہمیں معلوم تو ہو
غزل
سوز غم چیز ہے کیا کچھ ہمیں معلوم تو ہو
محمد منشاء الرحمن خاں منشاء

