EN हिंदी
سوز دل ہر شب ہمیں اپنا ہی بتلاتی ہے شمع | شیح شیری
soz-e-dil har shab hamein apna hi batlati hai shama

غزل

سوز دل ہر شب ہمیں اپنا ہی بتلاتی ہے شمع

عشق اورنگ آبادی

;

سوز دل ہر شب ہمیں اپنا ہی بتلاتی ہے شمع
دل کا جلنا ہم دکھاتے ہیں تو جل جاتی ہے شمع

یہ دھواں نیں درد سے بھرتی ہے آہیں جاں گداز
کس نزاکت سات ایک ایک اشک ٹپکاتی ہے شمع

سر ستے پاؤں تلک غرق عرق بے وجہ نیں
بے حجاب اس شعلہ رو کو دیکھ شرماتی ہے شمع

شعلہ رو کے دیکھنے کی یاں تلک مشتاق ہے
پاؤں تک سر سے لگا کر آنکھ بن جاتی ہے شمع

عشقؔ پروانے کے ماتم میں وہ اپنے بال کھول
سوز دل سے آہ کیا رونے میں بھر جاتی ہے شمع